Top Ad unit 728 × 90

نواز شریف کی جگہ کون لے سکتا ہے؟

شریف خاندان کے خلاف معلوم ذرائع سے زیادہ جائیداد رکھنے کے مقدمے کے انجام تک پہنچنے سے پہلے ہی حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے اندر مستقبل کی حکمت عملی پر اہم فیصلے کیے جا چکے ہیں۔
بظاہر تو مسلم لیگی رہنما وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف فیصلے کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے ان کے متبادل کے بارے میں مشاورت کی تردید کرتے ہیں لیکن بعض اہم مسلم لیگی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند روز کے دوران جماعت کی اعلیٰ قیادت کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کرتی رہی ہے۔
ان لیگی ذرائع کے مطابق نواز شریف کی ممکنہ نااہلی کی صورت میں مسلم لیگ اور حکومت کی قیادت کس کے سپرد کی جائیگی اس بارے میں حکمران خاندان اور جماعت کے بعض اہم رہنماؤں نے بعض نام طے کر رکھے ہیں جن کا اعلان صرف ضرورت پڑنے پر ہی کیا جائے گا۔
پاکستان میں حکمران جماعت کے نام پر غور کریں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور اس کے سربراہ نواز شریف لازم و ملزوم ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ جس الیکشن کمیشن کے پاس یہ جماعت رجسٹرڈ ہے اس کے قواعد کے مطابق جرم ثابت ہونے کی صورت میں نواز شریف وزارت عظمیٰ سے تو الگ ہو ہی جائیں گے، انھیں پارٹی صدارت سے بھی ہاتھ دھونا ہوں گے۔


ایسے میں حکمران جماعت کو ان دونوں کلیدی عہدوں پر نئی تعیناتیاں کرنی ہوں گی۔ مسلم لیگ تنظیمی لحاظ سے جتنی بڑی جماعت ہے، ان عہدوں کے لیے افراد کے چناؤ کا معاملہ ہو تو یہ سکڑ کر پانچ سات لوگوں تک محدود ہو جاتی ہے۔

نواز شریف کی جگہ کون لے سکتا ہے؟ Reviewed by bazid ahmad on July 05, 2017 Rating: 5

No comments:

All Rights Reserved by brain tumors © 2014 - 2015
Powered By Blogger, Shared by The Free Themes

Biểu mẫu liên hệ

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.